اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم؛ ع۔ حسینی عارف
ترجمہ: الف۔ ع۔ جعفری
چند مقدمے
۱: جمعہ اسلامی کلچر میں ’’عید‘‘ اور ’’جشن‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کی فضیلت میں پیغمبر اکرم (ص) سے روایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ جمعہ، دنوں کا سردار ہے اور خداوند عالم اس دن نیکیوں کے ثواب میں اضافہ اور گناہوں اور معاصیتوں کو پاک کر دیتا ہے۔ مومنین کے درجات کو بلند اور دعاوں کو مستجاب کرتا ہے، حاجتوں کو بھر لاتا ہے۔۔۔۔‘‘ (الکافی، ج۳، ص۴۱۴)
اسی وجہ سے مسلمان اس دن چھٹی مناتے ہیں نئے لباس پہنتے ہیں، صلہ رحم کرتے ہیں ایک دوسرے کے ہاں مہمان جاتے ہیں یا سیر و تفریح کے لیے پارکوں کا رخ کرتے ہیں۔
۲: مسجد اسلامی تعلیمات میں ’’ اللہ کا گھر‘‘ اور ’’ امن کی جگہ‘‘ قرار پائی ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) کا فرمان ہے: ’’ مساجد، پرہیزگاروں کا گھر ہے اور ہر وہ شخص جس کا گھر مسجد ہو ( یعنی وہ زیادہ وقت مسجد میں مشغول عبادت رہے) خداوند عالم اس کے کاموں کو باعث رحمت قرار دیتا ہے اور اسے پل صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے‘‘۔ (کنز العمال،ج۷، ص۶۵۹) اور نیز فرمایا: ’’ جب (اہل زمین پر) مشکلات اور بلائیں نازل ہوتی ہیں تو اہل مساجد امان میں رہتے ہیں‘‘۔ (مستدرک الوسائل، ج۱، ص۲۲۶)۔
اسی وجہ سے گزشتہ زمانے میں بھی مسلمان، جرائم پیشہ افراد سے اپنی جانیں بچانے کے لیے مسجدوں میں پناہ لیتے تھے اور وہ ظالم وجابر لوگ، مسجدوں میں پناہ گزینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرئت نہیں کرتے تھے۔
۳: جمعہ کی نماز، اسلام میں اہم ترین عبادت ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اسے ’’حج فقرا‘‘ کا نام دیا ہے اور رہبران دین نے ان افراد کی مذمت کی ہے جو بغیر کسی عذر کے نماز جعمہ ترک کرتے ہیں۔ (وسائل الشیعہ، ج۷، ابواب صلاۃ الجمعہ و آدابھا)۔
۴: ان تمام چیزوں یعنی روز جمعہ، مسجد اور نماز جمعہ کو اگر ماہ مبارک رمضان میں پیش نظر رکھا جائے تو ان کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
جمعہ کی نماز، داعش کا نیا ٹارگٹ
دنیا کے کونے کونے میں مظلوم عوام کو دھشتگردی کا نشانہ بنانا تو دھشتگردوں مخصوصا داعش کا پیشہ بن گیا ہے لیکن کچھ مہینوں سے جو اس دھشتگرد ٹولے کی پالیسی میں نئی تبدیلی آئی ہے وہ شیعہ مساجد کو نماز جمعہ کے دوران اپنے حملوں کا نشانہ بنانا ہے۔
دھشتگردانہ کاروائیوں کی اس نئی لہر میں ۲۰ مارچ ۲۰۱۵ کو صنعا میں زیدی شیعوں کی دو مسجدوں کو خود کش حملوں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا کہ جس میں ۱۴۰ سے زیادہ افراد شہید ہوئے۔
اس کے بعد داعش کی یہ کاروائیاں ایسے علاقوں میں پہنچیں کہ جن میں اس سے قبل کبھی ایسی دھشتگردانہ کاروائیاں نہیں ہوئی تھیں یعنی سعودی عرب اور کویت۔ ۲۲ مئی ۲۰۱۵ بروز جمعہ کو سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقے میں کہ جہاں لوگ امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت کی خوشی منا رہے تھے دھشتگردانہ کاروائی کی گئی اور شہر قطیف کے علاقے القدیح میں مسجد امام علی(ع) پر حملہ کیا گیا اور دسیوں نمازیوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا گیا۔ اس کے دوسرے جمعے، دمام میں شیعوں کی مسجد کو ٹارگٹ بنایا گیا جس میں بھی کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
اور گزشتہ روز کویت کے علاقے ’’الصوابر‘‘ کی مسجد امام صادق علیہ السلام میں نماز جمعہ کے دوران داعش کا ایک خودکش حملہ آور گھستا ہے اور ایسے حال میں خود کو نمازیوں کے درمیان اڑا دیتا ہے کہ نمازی نماز جمعہ کی آخری رکعت کے سجدے میں ہوتے ہیں اور اس دھشتگردانہ کاروائی میں ۲۵ افراد شہید ہو جاتے ہیں۔
داعش میں جوانوں کی شمولیت کے اسباب
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دھشتگرد ٹولوں مخصوصا داعش میں کیسے جوان خودکش حملے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سارے قاتل اور جلاد پیسے کی خاطر تکفیری ٹولوں میں شامل ہوئے اور ہو رہے ہیں لیکن کئی ایسے متدین اور بعض پڑھے لکھے لوگ جو اسلامی اور غیر اسلامی ممالک سے اپنی بہترین زندگی اور عیش و عشرت کو چھوڑ کر ان ٹولوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور خودکش حملوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اس کا راز کیا ہے؟
اس کے راز کو جاننے کے لیے کافی گفتگو اور تحقیق کی ضرورت ہے لیکن فی الحال ہم ذیل میں صرف ایک زاویہ نگاہ سے اس راز کا تجزیہ کرتے ہیں:
عربی اور اسلامی ممالک میں فتنہ و فساد اور مسلمان حکمرانوں کا ظلم و جور اور ان کا مغرب اور اسرائیل کا ٹٹو بنے رہنا ان ملکوں کے جوانوں میں احساس حقارت پیدا ہونے کا سبب بنا اور پھر یہ احساس حقارت اس بات کا باعث بنا کہ بہت سارے جوان، ایسے راستے کی تلاش میں نکلیں جو انہیں اصلی اسلام کی طرف لے کر جائے۔
اسی دوران، سرزمین ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ایسے بہت سارے جوانوں کے دلوں کو اپنی طرف جذب کر لیا جو اپنے ممالک کے حکمرانوں کی خیانتوں کو دیکھ رہے تھے۔ جس کے بعد یہ جوان اپنے حکمرانوں سے متنفر ہو گئے اور انقلاب اسلامی سے الہام حاصل کرنے لگے۔
لیکن عالمی استکبار نے ان حالات کو دیکھ کر اسلامی انقلاب کے مقابلے میں اہل سنت کے اندر وہابیت کو جنم دیا اور اسے اسلامی انقلاب کا بدیل قرار دیتے ہوئے اس پر باقاعدہ کام کرنا شروع کیا۔ چونکہ وہابیت کے افکار کافی حد تک استکباری افکار کے ملتے جھلتے اور حقیقی اسلام سے دور تھے اور تقریبا ۵۰ سال سے عربی ممالک میں ان انحرافی افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی ادارے بھی سر اٹھا رہے تھے۔ جس کا ایک واضح نمونہ، مصر کے صدر جمہوریہ انور سادات کا خالد اسلامبولی کے ہاتھوں قتل تھا جو ڈیوڈ کمپ کی قرار داد کے بعد انجام پایا۔
اگر چہ اسلامی انقلاب اور سلفی وہابیت دونوں اسلام کی طرف بازگشت اور کفر سے مقابلے میں مشترکہ ہدف رکھتے ہیں لیکن ان کا جوہری اور بنیادی فرق اتنا زیادہ ہے کہ استکبار طاقتوں نے ایک جانب سے انقلاب اسلامی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور دوسری جانب وہابیت کو پروان چڑھا کر اسے اپنے اہداف و مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اگر چہ بظاہر القاعدہ اور داعش جیسے دسیوں ٹولے امریکہ کے خلاف جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں انہیں کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب اور سلفی تفکر میں اہم ترین فرق یہ ہے کہ اسلامی انقلاب، اسلام کی تفسیر اہل بیت اطہار(ع) کی زبان سے کرتا ہے جبکہ تکفیری وہابی کتاب و سنت کی تفسیر بالرائے کے قائل ہیں۔
تکفیری سلفی فرقے کو چند اہم شیطانی مقاصد کے لیے وجود میں لایا گیا:
۱: مسلمان جوانوں کو حقیقی اسلام سے دور کرنا؛ وہ حقیقی اسلام جس کی بنیاد شیعہ مذہب میں پائی جاتی ہیں اور جس کا نمائندہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔
۲: دین اسلام کو دنیا میں تشدد پسند اور وحشی پیش کرنا۔
۳: مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مذہبی جنگیں بھڑکانا۔
البتہ اس درمیان بعض سنی جوانوں کو خود سے دور کرنے میں افراطی شیعوں کا کردار بھی کافی موثر ہے جو انہوں نے اہل سنت کے بزرگوں کی توہین کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک حتی غیر اسلامی ممالک سے جوان ان تکفیری اور جہاری تحریکوں کی طرف جذب ہو رہے ہیں۔
مساجد پر حملے، داعش کی نابودی
جیسا کہ داعش نے مختلف حربوں کے ذریعے اور مسلمان جوانوں کو حقیقی دین سے بے خبر رکھتے ہوئے انہیں اپنی طرف کھینچ لیا ہے لیکن داعش کی کارائیوں کا اس نئے مرحلے میں داخل ہونا یعنی مساجد اور جمعے کی نمازوں کو نشانہ بنانا ان کی نابودی کی علامت ہے۔
سعودی عرب اور کویت میں کی گئیں تازہ کاروائیوں کے بعد داعش کی طرف سے جاری کئے گئے بیانیوں میں ان مقدس جگہوں پر حملوں کی توجیہ میں یوں کہا گیا ہے کہ یہ رافضیوں کے معابد اور شرک کی نشر و اشاعت کی جگہیں تھی۔ مثال کے طور پر کویت کی مسجد امام صادق (ع) میں دھماکے بعد جو بیان سامنے آیا اور اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اس میں کہا گیاـ ’’اس خبیث جگہ (معاذ اللہ) سے توحید اور اہل توحید کے خلاف جنگ اور شرک کی نشر و اشاعت جبکہ حزب اللہ کی نصرت ہوتی تھی۔ اس جگہ سے حوزہ علمیہ ’’النورین النیرین‘‘ کو مدد ملتی تھی جس میں رافضیوں کے مشرکانہ عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے اور کویت کے اہل سنت کے درمیان ان کی تبلیغ کے ذریعے انہیں شیعت کی طرف مائل کیا جاتا ہے‘‘۔
لیکن جرائم پیشہ تکفیریوں نے یہ نہیں کہا کہ اگر حوزہ علمیہ کو مٹانہ مدنظر تھا تو کیوں اللہ کے گھر کی حرمت کو پامال کیا گیا؟ کیوں بے گناہ نمازیوں کو خاک و خون میں لپ پت کیا گیا؟
قرآن کریم اسلام کا اصلی ترین منبع ہونے کے عنوان سے، حتی دوسرے ادیان کی عبادتگاہوں کو بھی محترم سمجھتا ہے اور فرماتا ہے: "وَ لَوْ لا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوامِعُ وَ بِیَعٌ وَ صَلَواتٌ وَ مَساجِدُ یُذكَرُ فیهَا اسمُ اللَّهِ كَثیراً" (سوره حج/ آیه 40) اسی وجہ سے اسلام کے کسی بھی فرقے میں حتی ان مفتیوں کے فتووں میں جو کتاب و سنت کی تفسیر بالرائے کے مطابق فتوے دیتے ہیں عیسائیوں اور یہودیوں کے معابد پر حملہ کرنا جائز نہیں ہے چہ رسد مسلمانوں کی مساجد پر۔
داعش نے ایسا اسلام کہاں سے سیکھا ہے کہ جو نہ جمعہ کو عید سمجھتا ہے اور نہ اللہ کے گھر کے لیے کسی احترام کا قائل ہے نہ حج فقرا اس کے نزدیک کسی اہمیت کا حامل ہے اور نہ ہی ماہ مبارک رمضان کا اس کے ہاں کوئی احترام ہے؟!
اگر اب تک داعش ’’ ظالم حکمران کے خلاف قیام‘‘ یا ’’ اسلامی احکام کے اجراء‘‘ کے بہانے سے مسلمان جوانوں کو اپنی طرف جذب کرتا تھا تو آج کے بعد دیکھ لیجیے کہ مسجدوں پر حملے کرنے اور مسلمانوں کو نماز جمعہ میں قتل عام کرنے سے اس نے خود اپنی نابودی کا سامان فراہم کر لیا ہے اس لیے کہ کوئی بھی مسلمان ان اقدامات کو اسلامی جہاد کا نام نہیں دے سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲